Munir Niazi Famous Poetry in Urdu, Best Ghazal

Munir Niazi was a great Urdu and Punjabi poet. Besides being a poet, he was also a good writer for newspapers and magazines. In 1960, he founded an organization called Al-Mishal, which later associated with Pakistan Television. One of his ghazals became very famous ‘Hamaisha Dair Ker Deta Hon Mein’ which is widely read and listened to. Let’s take a look at some of his best ghazals.

Hamaisha Dair Ker Daita Hon Mein 

Munir Niazi Famous Poetry

ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں ہر کام کرنے میں
ضروری بات کہنی ہو کوئی وعدہ نبھانا ہو
اسے آواز دینی ہو اسے واپس بلانا ہو
ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں

مدد کرنی ہو اس کی یار کی ڈھارس بندھانا ہو
بہت دیرینہ رستوں پر کسی سے ملنے جانا ہو
ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں

بدلتے موسموں کی سیر میں دل کو لگانا ہو
کسی کو یاد رکھنا ہو کسی کو بھول جانا ہو
ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں

کسی کو موت سے پہلے کسی غم سے بچانا ہو
حقیقت اور تھی کچھ اس کو جا کے یہ بتانا ہو
ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں ہر کام کرنے میں

=========

Gham Ki Barish Ne Bhi Tere Nakash Ko Dhua Nahi

غم کی بارش نے بھی تیرے نقش کو دھویا نہیں
تو نے مجھ کو کھو دیا میں نے تجھے کھویا نہیں

نیند کا ہلکا گلابی سا خمار آنکھوں میں تھا
یوں لگا جیسے وہ شب کو دیر تک سویا نہیں

ہر طرف دیوار و در اور ان میں آنکھوں کے ہجوم
کہہ سکے جو دل کی حالت وہ لب گویا نہیں

جرم آدم نے کیا اور نسل آدم کو سزا
کاٹتا ہوں زندگی بھر میں نے جو بویا نہیں

جانتا ہوں ایک ایسے شخص کو میں بھی منیرؔ
غم سے پتھر ہو گیا لیکن کبھی رویا نہیں

=========

Ye Kesa Nasha Hai Mein Kis Ajab Khumar Mein Hon

یہ کیسا نشہ ہے میں کس عجب خمار میں ہوں
تو آ کے جا بھی چکا ہے میں انتظار میں ہوں

مکاں ہے قبر جسے لوگ خود بناتے ہیں
میں اپنے گھر میں ہوں یا میں کسی مزار میں ہوں

در فصیل کھلا یا پہاڑ سر سے ہٹا
میں اب گری ہوئی گلیوں کے مرگ زار میں ہوں

بس اتنا ہوش ہے مجھ کو کہ اجنبی ہیں سب
رکا ہوا ہوں سفر میں کسی دیار میں ہوں

میں ہوں بھی اور نہیں بھی عجیب بات ہے یہ
یہ کیسا جبر ہے میں جس کے اختیار میں ہوں

منیرؔ دیکھ شجر چاند اور دیواریں
ہوا خزاں کی ہے سر پر شب بہار میں ہوں

=========

Ranj-e-Firaq Yaar Mein Ruswa Nahi Hoa

رٙنجِ فراقِ یار میں رُسوا نہیں ہُوا
اِتنا میں چُپ ہُوا کہ تماشہ نہیں ہُوا

ایسا سفر ہے جس میں کوئی ہمسفر نہیں
رستہ ہے اس طرح کا کہ دیکھا نہیں ہُوا

مشکل ہُوا ہے رہنا ہمیں اِس دیار میں
برسوں یہاں رہے ہیں ،یہ اپنا نہیں ہُوا

وہ کام شاہِ شہر سے یا شہر سے ہُوا
جو کام بھی ہُوا ،یہاں اچھا نہیں ہُوا

ملنا تھا ایک بار اُسے پھر کہیں منیر
ایسا میں چاہتا تھا ،پر ایسا نہیں ہُوا

=========

Zinda Rahain Tu Kia Hai Jo Mar Jain Ham Tu Kia

زندہ رہیں تو کیا ہے جو مر جائیں ہم تو کیا
دنیا سے خامشی سے گزر جائیں ہم تو کیا

ہستی ہی اپنی کیا ہے زمانے کے سامنے
اک خواب ہیں جہاں میں بکھر جائیں ہم تو کیا

اب کون منتظر ہے ہمارے لیے وہاں
شام آ گئی ہے لوٹ کے گھر جائیں ہم تو کیا

دل کی خلش تو ساتھ رہے گی تمام عمر
دریائے غم کے پار اتر جائیں ہم تو کیا

=========

Khiyal Jis Ka Tha Mujhy Khiyal Mein Mila Mujhy

خیال جس کا تھا مجھے خیال میں ملا مجھے
سوال کا جواب بھی سوال میں ملا مجھے

گیا تو اس طرح گیا کہ مدتوں نہیں ملا
ملا جو پھر تو یوں کہ وہ ملال میں ملا مجھے

تمام علم زیست کا گزشتگاں سے ہی ہوا
عمل گزشتہ دور کا مثال میں ملا مجھے

ہر ایک سخت وقت کے بعد اور وقت ہے
نشاں کمال فکر کا زوال میں ملا مجھے

نہال سبز رنگ میں جمال جس کا ہے منیرؔ
کسی قدیم خواب کے محال میں ملا مجھے

=========

Be Chain Bahot Phirna Ghabray Hoy Rehna

بے چین بہت پھرنا گھبرائے ہوئے رہنا
اک آگ سی جذبوں کی دہکائے ہوئے رہنا

چھلکائے ہوئے چلنا خوشبو لب لعلیں کی
اک باغ سا ساتھ اپنے مہکائے ہوئے رہنا

اس حسن کا شیوہ ہے جب عشق نظر آئے
پردے میں چلے جانا شرمائے ہوئے رہنا

اک شام سی کر رکھنا کاجل کے کرشمے سے
اک چاند سا آنکھوں میں چمکائے ہوئے رہنا

عادت ہی بنا لی ہے تم نے تو منیرؔ اپنی
جس شہر میں بھی رہنا اکتائے ہوئے رہنا

=========

Shab-e-Mehtab Ne Shah Nashin Pe Ajab Gul Sa Khila Diya

شب ماہتاب نے شہ نشیں پہ عجیب گل سا کھلا دیا
مجھے یوں لگا کسی ہاتھ نے مرے دل پہ تیر چلا دیا

کوئی ایسی بات ضرور تھی شب وعدہ وہ جو نہ آ سکا
کوئی اپنا وہم تھا درمیاں یا گھٹا نے اس کو ڈرا دیا

یہی آن تھی مری زندگی لگی آگ دل میں تو اف نہ کی
جو جہاں میں کوئی نہ کر سکا وہ کمال کر کے دیکھا دیا

یہ جو لال رنگ پتنگ کا سر آسماں ہے اڑا ہوا
یہ چراغ دست حنا کا ہے جو ہوا میں اس نے جلا دیا

مرے پاس ایسا طلسم ہے جو کئی زمانوں کا اسم ہے
اسے جب بھی سوچا بلا لیا اسے جو بھی چاہا بنا دیا

=========

Aaina Ab Juda Nahi Kerta

آئنہ اب جدا نہیں کرتا
قید میں ہوں رہا نہیں کرتا

مستقل صبر میں ہے کوہ گراں
نقش عبرت صدا نہیں کرتا

رنگ محفل بدلتا رہتا ہے
رنگ کوئی وفا نہیں کرتا

عیش دنیا کی جستجو مت کر
یہ دفینہ ملا نہیں کرتا

جی میں آئے جو کر گزرتا ہے
تو کسی کا کہا نہیں کرتا

ایک وارث ہمیشہ ہوتا ہے
تخت خالی رہا نہیں کرتا

عہد انصاف آ رہا ہے منیرؔ
ظلم دائم ہوا نہیں کرتا

=========

Bas Aik Mah Janon Khaiz Ki Zia Ke Siwa

بس ایک ماہ جنوں خیز کی ضیا کے سوا
نگر میں کچھ نہیں باقی رہا ہوا کے سوا

ہے ایک اور بھی صورت کہیں مری ہی طرح
اک اور شہر بھی ہے قریۂ صدا کے سوا

اک اور سمت بھی ہے اس سے جا کے ملنے کی
نشان اور بھی ہے ایک نشان پا کے سوا

زوال عصر ہے کوفے میں اور گداگر ہیں
کھلا نہیں کوئی در باب التجا کے سوا

مکان زر لب گویا حد سپہر و زمیں
دکھائی دیتا ہے سب کچھ یہاں خدا کے سوا

مری ہی خواہشیں باعث ہیں میرے غم کی منیرؔ
عذاب مجھ پہ نہیں حرف مدعا کے سوا

=========

Us Ka Naksha Aik be Tarteeb Afsane Ka Tha

اس کا نقشہ ایک بے ترتیب افسانے کا تھا
یہ تماشا تھا یا کوئی خواب دیوانے کا تھا

سارے کرداروں میں بے رشتہ تعلق تھا کوئی
ان کی بے ہوشی میں غم سا ہوش آ جانے کا تھا

عشق کیا ہم نے کیا آوارگی کے عہد میں
اک جتن بے چینیوں سے دل کو بہلانے کا تھا

خواہشیں ہیں گھر سے باہر دور جانے کی بہت
شوق لیکن دل میں واپس لوٹ کر آنے کا تھا

لے گیا دل کو جو اس محفل کی شب میں اے منیرؔ
اس حسیں کا بزم میں انداز شرمانے کا تھا

=========

Apna Tu Ye Kaam Hai Bhai Dil Ka Khun Bahate Rehna

اپنا تو یہ کام ہے بھائی دل کا خون بہاتے رہنا
جاگ جاگ کر ان راتوں میں شعر کی آگ جلاتے رہنا

اپنے گھروں سے دور بنوں میں پھرتے ہوئے آوارہ لوگو
کبھی کبھی جب وقت ملے تو اپنے گھر بھی جاتے رہنا

رات کے دشت میں پھول کھلے ہیں بھولی بسری یادوں کے
غم کی تیز شراب سے ان کے تیکھے نقش مٹاتے رہنا

خوشبو کی دیوار کے پیچھے کیسے کیسے رنگ جمے ہیں
جب تک دن کا سورج آئے اس کا کھوج لگاتے رہنا

تم بھی منیرؔ اب ان گلیوں سے اپنے آپ کو دور ہی رکھنا
اچھا ہے جھوٹے لوگوں سے اپنا آپ بچاتے رہنا

=========

Apni Hi Teegh Ada Se Aap Ghail Ho Gia

اپنی ہی تیغ ادا سے آپ گھائل ہو گیا
چاند نے پانی میں دیکھا اور پاگل ہو گیا

وہ ہوا تھی شام ہی سے رستے خالی ہو گئے
وہ گھٹا برسی کہ سارا شہر جل تھل ہو گیا

میں اکیلا اور سفر کی شام رنگوں میں ڈھلی
پھر یہ منظر میری نظروں سے بھی اوجھل ہو گیا

اب کہاں ہوگا وہ اور ہوگا بھی تو ویسا کہاں
سوچ کر یہ بات جی کچھ اور بوجھل ہو گیا

حسن کی دہشت عجب تھی وصل کی شب میں منیرؔ
ہاتھ جیسے انتہائے شوق سے شل ہو گیا

=========

Itne Khamoosh Bhi na Raha Kero

اتنے خاموش بهی رہا نہ کرو
غم جدائی میں یوں کیا نہ کرو

خواب ہوتے ہیں دیکهنے کےلیے
ان میں جا کر مگر رہا نہ کرو

کچه نہیں ہو گا گلہ کرنے سے
ان سے نکلیں حکاتیں شاید

حرف لکه کر مٹا دیا نہ کرو
اپنے رتبے کا کچه لحاظ منیر

یار سب کو بنا لیا نہ کرو

=========

Us Simat Mujh Ko Yaar Ne Jaane Nahi Dia

اس سمت مجھ کو یار نے جانے نہیں دیا
اک اور شہر یار میں آنے نہیں دیا

کچھ وقت چاہتے تھے کہ سوچیں ترے لیے
تو نے وہ وقت ہم کو زمانے نہیں دیا

منزل ہے اس مہک کی کہاں کس چمن میں ہے
اس کا پتہ سفر میں ہوا نے نہیں دیا

روکا انا نے کاوش بے سود سے مجھے
اس بت کو اپنا حال سنانے نہیں دیا

ہے جس کے بعد عہد زوال آشنا منیرؔ
اتنا کمال ہم کو خدا نے نہیں دیا

=========

Read More: Ahmad Faraz Poetry

Add Comment